اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ و سعودی نواز سیاسی اتحاد العراقیہ نے عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی تاریخ قریب آتے ہی دہشت گردی کو فروغ دینے کے ساتھ عراق کی تقسیم کا نعرہ اٹھایا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبہ واسط کی شوری کے سیکریٹری اور العراقیہ الائنس کے راہنما "غضنفر البطیخ" نے "پیشین گوئی" کی ہے کہ کردستان کے تین صوبوں کے سوا باقی سارے صوبے خودمختاری کا اعلان کرسکتے ہیں۔انھوں نے بظاہر تو پیشین گوئی کی ہے لیکن ان کے باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت اس گروپ کی طرف سے ملک کی تقسیم کی تجویز دی ہے۔ البطیخ نے دعوی کیا کہ صوبوں کی جانب سے خودمختاری کا اعلان عراق کے آئین کے عین مطابق ہے اور عراقی سیاستدانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہئے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال (2011) کے آغاز میں واسط صوبے کے اراکین شوری نے خودمختاری کے اعلان کا فیصلہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس صوبے میں وفاقی نظام بنائیں گے۔البطیخ نے دعوی کیا کہ ہم نے اس فیصلے کے اعلان کو ملتوی کیا تھا تا کہ عراقی حکومت اس صوبے کے عوام کو وفاقی ریاست کی اہمیت سے آگاہ کرے۔نوری المالکی کا رد عملوزير اعظم نوری المالکی نے اس اعلان اور العراقیہ الائنس کی جانب سے ٹیلی ویژن اسکرین پر اس موقف پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے منصوبے ملک کو تقسیم کرنے کی تجاویز ہیں۔الواسط عراق کے جنوبی صوبوں میں سے ایک ہے اور اس صوبے کا مرکزی شہر "الکوت" دارالحکومت بغداد سے 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دوسری طرف سے بغداد سے 175 کلومیٹر شمال میں واقع صوبے صلاح الدین کی شوری نے بھی گذشتہ جمعرات (27 اکتوبر 2011) کو خودمختاری کا اعلان کیا۔ نوری المالکی نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ صلاح الدین میں گذشتہ کئی مہینوں سے دکھائی دینے والا امن و استحکام صدام کی جماعت "حزب البعث" کی تجویز کا نتیجہ تھا کیونکہ یہ جماعت صلاح الدین میں امن و استحکام برقرار رکھنا چاہتی ہے اور موصل، دیالہ، کرکوک، الانبار اور بغداد میں دہشت گردی کی کاروائیاں جاری رکھنا چاہتی ہے۔دریں اثناء صلاح الدین صوبے کے گورنر "احمد عبداللہ العبد" نے گذشتہ جمعرات کو دھمکی دی تھی کہ اگر "بازخواست اور عدل بورڈ" (جو کہ بعث پارٹی کی بیخ کنی کے لئے تشکیل پایا ہے) نے صلاح الدین یونیورسٹی کے بعض اساتذہ کے خلاف حکم جاری کیا تو وہ دوسرے صوبوں تک تیل کی مصنوعات اور بجلی کی ترسیل میں خلل ڈالیں گے۔صدام کے باقیات عراق کی تقسیم کے لئے سرگرم ہوگئےعراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے صوبہ صلاح الدین میں وفاقین نظام کے اعلان کو ملک کی تقسیم کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صوبہ صدام کی زوال یافتہ آمریت کے باقیات اور دہشت گردوں کی جنت میں تبدیل ہوگیا ہے۔انھوں نے صوبہ صلاح الدین کو "راکھ کے نیچے آگ" (Fire under the ashes) قرار دیا اور کہا کہ بعثیوں کی کوشش ہے کہ صوبہ صلاح الدین ہمیشہ کی طرح دہشت گرد ٹولوں کی جنت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ نوری المالکی نے کہا کہ فیڈرل سسٹم ایک قانونی مسئلہ ہے اور ہم اس میں رکاوٹ نہیں ڈالتے لیکن اس صورت میں اس مسئلے کا اعلان، اور ساتھ ہی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ اور حزب بعث اور فرقہ واریت کی اعلانیہ حمایت، ایک غلط اقدام تھا۔ انھوں نے کہا کہ عراق کی تقسیم کے لئے اٹھنے والے عناصر نے شام، لیبیا اور یمن سے لوٹ کر آنے والے بعثیوں کے لئے ایک پناہگاہ مہیا کرنے کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے کہ صوبہ صلاح الدین میں وفاقی نظام کا مطالبہ کرنے والے شخص (صلاح الدین کے گورنر) کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ صلاح الدین کو بعثیوں کے لئے پر امن اڈے اور نو گو ایریا میں تبدیل کیا جائے جہاں حکومت کو بھی مداخلت کرنے اور حتی قدم رکھنے کا حق نہ ہو۔ انھوں نے کہا: صوبہ صلاح الدین کے عوام اس صوبے میں وفاقی نظام کے قیام کے خلاف ہیں اور حکومت مطلوبہ افراد کی گرفتاری کے لئے ہر اس علاقے میں داخل ہوگی جہاں وہ چھپے ہوئے ہوں۔انھوں نے کہا: صوبہ صلاح الدین سے نہ تو وفاقی نظام کے قیام کی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی اعلان موصول ہوا ہے۔انھوں نے کہ اس طرح کی درخواست قانونا حکومت کے لئے بھیج دیتی ہے اور چونکہ اس درخواست کی بنیاد فرقہ وارانہ اور قوم پرستانہ مسائل اور بعثیوں کی حمایت پر استوار ہے اسی لئے حکومت اس کی مخالفت کرے گی اور اگر حکومت کسی بھی وجہ سے اس سے اتفاق کر بھی لے تو یہ درخواست پارلیمان میں پیش ہوگی جبکہ پارلیمان قطعی طور پر اس کے خلاف ہے؛ اور اگر پھر پارلیمان بھی اس سے اتفاق کرلے تو یہ تجویز صوبے کی سطح پر ریفرینڈم کا موضوع بنے گا جس کے لئے نصف + 1 ووٹروں کی رائے کی ضرورت ہوگی۔انھوں نے صلاح الدین کے عوام سے کہا کہ وہ ہرگز نہ گھبرائیں اور اپنی رائے اور ان کے نظریئے کا یقین کرلیں اور جان لیں کہ وہ اس تجویز کی مخالفت بھی کرسکتے ہيں اور ان کی مخالفت مؤثر بھی ہوگی۔نوری المالکی نے کہا: ان کی حکومت وفاقی نظام کی حمایت کرتی ہے لیکن صلاح الدین صوبے کی جانب سے خودمختاری کا اعلان قبول نہیں کرتی کیونکہ اس صوبے کی جانب سے خودمختاری کا اعلان غیر قانونی تقسیم کا باعث بنتا ہے اور یہ ہمارا حق ہے کہ اس کی مخالفت کریں کیونکہ اس اقدام کا ایک منفی نتیجہ یہ ہوگا کہ بغداد، موصل اور کردستان کے راستے بند ہوجائیں گے اور ان علاقوں کا پانی بھی بند ہوجائے گا اور یہ سب عراق کی تقسیم کا سبب ہیں۔انھوں نے کہا: صوبہ صلاح الدین کے وسائل بہت کم اور اس کی سرحدیں بہت محدود ہیں، یہاں عرب، کرد اور ترکمن اقوام اور شیعہ اور سنی مسلمان رہتے ہيں۔انھوں نے کہا کہ بعض عناصر نے حکومت پر صلاح الدین کی طرف توجہ نہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور ہم پوچھتے ہيں کہ اس بے توجہی کا مطلب کیا ہے؟ کیا ان کو قومی اور عمومی بجٹ سے اپنا حصہ نہیں ملا؟ اگر بجٹ کی تخصیص میں کوئی نقص ہے بھی تو حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی ایسا مسئلہ بھی وجود نہیں رکھتا۔عراق میں ناامنی پھیلانے والے بعث پارٹی کے دہشت گردوں سمیت 600 گرفتار عراق کی وزارت داخلہ کے اعلی اہلکار "عدنان الاسدي" نے ہفتے کے روز العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام کے باقیات اور حزب بعث نیٹ ورک کے اراکین سمیت عراق میں دہشت گردی کے دہشت گردی اور بدامنی کے الزام میں 600 افراد گرفتار کئے گئے ہيں۔ عراق کے قائم مقام وزیر داخلہ "عدنان الاسدي" نے کہا: بعث پارٹی آئین کے دفعہ سات کے مطابق ممنوع (اور کالعدم) ہے لیکن اس نے ملک کے تمام صوبوں میں نیٹ ورک قائم کیا ہے اور ہماہنگ ہوکر ایک بار پھر سرگرم عمل ہوگئی ہے۔انھوں نے کہا: یہ نیٹ ورک مختلف ٹولوں کے ٹیرر ونگز کے اراکین سے تشکیل پایا ہے اور وزارت داخلہ نے اپنی انٹلیجنس ایجنسیوں کے توسط سے نیز "عراق کی اسلامی حکومت" نامی زیر زمین ٹولے اور القاعدہ کے دہشت گرد ٹولے کے اعترافات کی روشنی میں، اس ٹیرر گروپ کے خلاف اپنے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ انھوں نے کہا: عراق سے امریکہ کے انخلاء کے پیش نظر عراق کے تمام شہروں اور صوبوں میں اس نیٹ ورک اور بعث پارٹی سے وابستہ گروپوں کے درمیان وسیع ہماہنگی پائی جاتی ہے اور یہ ٹولے "عراق کی اسلامی حکومت" نامی زیر زمین دہشت گرد ٹولے کے اراکین کو اطلاعات و معلومات اور مالی امداد فراہم کررہے ہیں۔انھوں نے کہا: بعث پارٹی کے دو دھڑے "يونس الاحمد" اور "عزت الدوری" کے زیر سرپرستی بیرون ملک سرگرم عمل ہیں اور ان کے پاس وسیع مالی وسائل ہیں کیونکہ وہ صدام دور میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک منتقل کرچکے ہیں چنانچہ عراق میں بھی کئی تشدد پسند گروپ ان کی حمایت کرتے ہيں یا پھر عزت الدوری اور یونس الاحمد کے اشارے پر تشکیل پائے ہیں۔الاسدی نے مزید کہا: ہماری اطلاعات کے مطابق اس تخریبکار اور دہشت گرد نیٹ ورک کے 80 سے 85 فیصد تک اراکین گرفتار کئے جاچکے ہيں اور اس کے دیگر اراکین کی گرفتاری کے لئے کاروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا: صدام کے باقیات اور بعث پارٹی کے دہشت گرد عناصر ملک میں تخریبکاری، دہشت گردی اور عوام کے قتل کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتے اور یہ لوگ پھر کبھی بھی کسی صورت میں بھی اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن تک نہیں پہنچ سکیں گے۔انھوں نے کہا: عراقی حکومت کو کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں ہے کیونکہ قانون موجود ہے اور قانونی ادارے بھی موجود ہیں چنانچہ قانون اور قانونی اداروں کے سائے میں ملک کے سیاسی حالات مستحکم ہیں۔بات کیا ہے؟ یہ لوگ کیوں فعال ہوگئے ہیں یہ کیا چاہتے ہيں؟اصل بات یہ ہے کہ امریکہ کو اب معاہدے کے مطابق عراق سے چلا جانا ہے جبکہ اس نے بہتیری سازشیں کیں، کوششیں کیں، دھونس دھمکی آزما لی اور دہشت گردی کی بڑی بڑی کاروائیاں بھی کروائیں تا کہ عراقی حکومت کو قائل کیا جاسکے کہ امریکی فوج کے بغیر اس کے ملک کو امن نصیب نہ ہوگا۔سعودی عرب اور کویت نیز اردن اور دوسرے عرب ممالک کو امریکہ کے انخلاء نے تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے اور ان کو ایک مقبوضہ عراق ایک آزاد اور خود مختار اور طاقتور عراق سے زیادہ عزیز ہے چنانچہ وہ بھی امریکیوں کے ساتھ مل کر اب تک لاکھوں عراقیوں کے قتل کرچکے اور یہی قتل و غارت بھی ان کو فکرمند کررہی ہے کہ عراقی اگر مقتد اور طاقتور ہوجائیں اور انہیں اپنے عزیزوں کا وسیع قتل عام بھی یاد ہو اور امریکہ بھی عراق میں موجود نہ ہو تو یہ ان کے لئے کوئی اچھی بات نہيں ہے!!۔ بات یہ ہے کہ عراقی امریکہ کے ساتھ معاہدے کی تجدید کے لئے ہرگز تیار نہ ہوئے اور انھوں نے امریکہ کے ساتھ "الائنس" تشکیل دینے کی بھی مخالفت کردی اور آج ہی عراق کے برسراقتدار سیاسی اتحاد "حکومت قانون" کے ایک راہنما نے کہا کہ "امریکہ کے ساتھ عراق کا اتحاد ناممکن ہے"۔ عبدالحلیم الرہیمی نے مستقبل میں امریکہ کے ساتھ عراق کے اتحاد کو بعید ازقیاس قرار دیا اور کہا کہ اس سال کے آخر تک امریکی افواج کے انخلاء کے بعد عراقی فورسز امن و امان قائم کرنے کے اہل ہیں اور ہمیں امریکیوں کی ضرورت نہيں ہے اور ہم ایک مفاہمت نامے کے تحت امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کو کافی سمجھتے ہیں۔ اور اگر امریکی معاہدے کے تحت اس سال کے آخر تک عراق سے نکلنے پر آمادہ نہ ہوئے تو اس سے عراق کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہونگے اور ملک میں بدامنی پھیل جائے گی۔انھوں نے کہا: القاعدہ اور عراق کے بدخواہ گروپ عراق کے امن کو تباہ کرنے کے لئے دہشت گردانہ کاروائیوں کے درپے ہیں جس کی بنا پر بعض گروپ کہتے ہیں کہ امریکیوں کی موجودگی کے معاہدے میں دو سال تک توسیع ہونی چاہئے لیکن عراقی عوام اور سیاستدان نیز حکومت و پارلیمان اس کے خلاف ہيں۔انھوں نے کہا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ عراقی افواج کو تربیت دینے کے لئے کچھ امریکی فوجیوں کو ملک میں رکھنا چاہئے لیکن امریکی ان افراد کو قانونی استث
29 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 275437
عراق سے امریکی جارحین کے انخلاء کی تاريخ کی آمد آمد پر اس ملک کے خلاف مختلف قسم کی سازشیں نمایاں ہورہی ہیں/ امریکہ و سعودی نواز اتحاد العراقیہ نے عراق کی تقسیم کا نعرہ اٹھایا / نوری المالکی کا رد عمل؛ صدام کے باقیات عراق کی تقسیم کے لئے سرگرم ہوگئے/عراق میں ناامنی پھیلانے والے بعث پارٹی کے دہشت گردوں سمیت 600 گرفتار / یہ لوگ کیا چاہتے ہيں؟/ آل سعود، صدام باقیات، کویت اور امریکیوں کا اشتراک عمل۔